MOJ E SUKHAN

زندگی کا فلسفہ کھل کر عیاں ہونے لگا

زندگی کا فلسفہ کھل کر عیاں ہونے لگا
جس گھڑی وہ آخرت کا رازداں ہونے لگا

ہم نے اپنے آپ کی تائید کرکے پا لیا
کون اس وحشی سماں کا آشیاں ہونے لگا

کس لئے کرتا رھا جان وہ مجھ پر بھی نثار
کس لئے وہ آج مجھ پر مہربان ہونے لگا

یعنی اس کو بھی شعور وآگہی نے آ لیا
یعنی گویا بزم میں وہ بے زباں ہونے لگا

ھاں لکھا ناہید، میں نے نام دل پر اس کا جب
وہ گل تر رفتہ رفتہ گلستان ہونے لگا

ناہید علی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم