زندگی کا فلسفہ کھل کر عیاں ہونے لگا
جس گھڑی وہ آخرت کا رازداں ہونے لگا
ہم نے اپنے آپ کی تائید کرکے پا لیا
کون اس وحشی سماں کا آشیاں ہونے لگا
کس لئے کرتا رھا جان وہ مجھ پر بھی نثار
کس لئے وہ آج مجھ پر مہربان ہونے لگا
یعنی اس کو بھی شعور وآگہی نے آ لیا
یعنی گویا بزم میں وہ بے زباں ہونے لگا
ھاں لکھا ناہید، میں نے نام دل پر اس کا جب
وہ گل تر رفتہ رفتہ گلستان ہونے لگا
ناہید علی