MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

شوق کا تقاضہ ہے شرح آرزو کیجے

شوق کا تقاضہ ہے شرح آرزو کیجے
دل سے عہد خاموشی کیسے گفتگو کیجے

دل ہو یا گریباں ہو روز چاک ہوتے ہیں
کیا جنوں کے موسم میں کوشش رفو کیجے

عاشقی و خودداری بندگی و خود بینی
آرزو کی راہوں میں خون آرزو کیجے

داد سعئ پیہم کی کچھ تو دیجئے یعنی
تازہ تر شکستوں سے دل کو سرخ رو کیجے

پائے شوق میں کب تک راستوں کی زنجیریں
صورت صبا چلیے سیر چار سو کیجے

ہے خلوص کا مسلک دشمن اثر آخر
جو نہ ہو مقدر میں اس کی جستجو کیجے

بزم‌‌ جام و مینا میں داد تشنگی دیجے
موسم بہاراں میں حسرت نمو کیجے

کیا عجب کہ بر آئے دل کی آرزو تاباںؔ
سیر کوئے قاتل کی آپ بھی کبھو کیجے

غلام ربانی تاباں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم