MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ضبط غم کر بھی لیا تو کیا کیا

ضبط غم کر بھی لیا تو کیا کیا
دل کی رگ رگ سے لہو ٹپکا کیا

ہر تجلی آپ کی تصویر تھی
اس لئے میں ہر طرف دیکھا کیا

غم کے شعلے جان تک سرکش ہوئے
عشق سوز دل ہی کو رویا کیا

لوٹ لیں سب حسن کی خودداریاں
اے نگاہ واپسیں یہ کیا کیا

تھا تمہارے سامنے دل کو سکوں
پھر جو گھبرایا تو گھبرایا کیا

شام غم کی بڑھ گئیں تاریکیاں
اے چراغ آرزو یہ کیا کیا

کس سے پیمان محبت باندھئے
کون کس کا راستہ دیکھا کیا

آپ سے اب کیا کہیں اس کے سوا
آپ نے جو کچھ کیا اچھا کیا

حاصل غم بھی مٹا کر رکھ دیا
اے غم بے حاصلی یہ کیا کیا

تجھ پہ یہ الزام باسطؔ کم نہیں
پیار کی نظروں سے کیوں دیکھا کیا

باسط بھوپالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم