Shagufta Zaat ko phir sat Zara Tameer karny Tak
غزل
شگفتہ ذات کو پھر سے ذرا تعمیر کرنے تک
بکھر جاؤں نہ خود میں ضبط کو تحریر کرنے تک
مرے احساس میں جاگی ہے جب اس کی محبت تو
دعا کو ہاتھ کیوں پھیلے اسے تسخیر کرنے تک
کسک یوں تو بچھڑنے کی ہمیشہ ساتھ رہتی ہے
ملا کرتا ہے غم سب کو فقط دلگیر کرنے تک
محبت ہے عطا رب کی بہت پاکیزہ جذبہ ہے
کوئی سمجھے کہاں جذبات کو تفسیر کرنے تک
تعلق میں دغا کرنا ہمیں آیا نہیں اے شاز
تبھی ہم ٹوٹ کر بکھرے خودی تعمیر کرنے تک
شاز ملک
Shaaz Malik
