MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

شہر فصل گل سے چل کر پتھروں کے درمیاں

غزل

نصرت فتح علی خان کی آواز نے غزل کو لازوال کر دیا

شہر فصل گل سے چل کر پتھروں کے درمیاں
زندگی آ جا کبھی ہم بے گھروں کے درمیاں

میں ہوں وہ تصویر جس میں حادثے بھرتے ہیں رنگ
خال و خط کھلتے ہیں میرے خنجروں کے درمیاں

پہلے ہم نے گھر بنا کر فاصلے پیدا کیے
پھر اٹھا دیں اور دیواریں گھروں کے درمیاں

عہد حاضر میں اخوت کا تصور ہے مگر
تذکروں میں کاغذوں پر رہبروں کے درمیاں

ان شہیدان وفا کے نام میرے سب سخن
سر بلندی جن کو حاصل ہے سروں کے درمیاں

کیسا فن کیسی ذہانت یہ زمانہ اور ہے
سیکھ لو کچھ شعبدے بازی گروں کے درمیاں

اڑ گیا تو شاخ کا سارا بدن جلنے لگا
دھوپ رکھ لی تھی پرندے نے پروں کے درمیاں

یہ جو خانہ ہے سکونت کا یہاں لکھ دو بشیرؔ
پھول ہوں لیکن کھلا ہوں پتھروں کے درمیاں

بشیر فاروقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم