MOJ E SUKHAN

صحرائے خیال کا دیا ہوں

صحرائے خیال کا دیا ہوں
ویرانۂ شب میں جل رہا ہوں

ساغر کی طرح سے چور ہو کر
محفل میں بکھر بکھر گیا ہوں

اپنے ہی لہو کی روشنی میں
نیرنگ جہاں کو دیکھتا ہوں

وہ چاند ہوں گردشوں میں آ کر
خود اپنی نظر سے کٹ گیا ہوں

ہر عہد ہے میرے دم سے رنگین
میں نغمۂ ساز ارتقا ہوں

آئینہ صفت نظر سے تیری
عکس در و بام بن گیا ہوں

احساس کی تلخیوں میں ڈھل کر
میں درد کا چاند بن گیا ہوں

سن لو مجھے میکدہ پرستو!
بھیگی ہوئی رات کی صدا ہوں

گل زار میں رہ کے بھی رضاؔ میں
خوشبو کے لیے ترس گیا ہوں

رضا ہمدانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم