MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

لب پہ ھے فریاد کہ ساقی یہ کیسا مے خانہ ھے

لب پہ ھے فریاد کہ ساقی یہ کیسا مے خانہ ھے
رنگ خون دل نہیں چمکا ، گردش میں پیمانہ ھے

مٹ بھی چکیں امیدیں مگر باقی ھے فریب امیدوں کا
اس کو یہاں سے کون نکالے ، یہ تو صاحب خانہ ھے

ایسی باتیں اور سے جا کر کہئے تو کچھ بات بھی ھے
اس سے کہے کیا حاصل جس کو سچ بھی تمہارا بہانہ ھو

طور اطوار انوکھے اس کے ، کس بستی سے آیا ھے
پاؤں میں لغزش کوئی نہیں ھے یہ کیسا مستانہ ھے

مے خانے کی جھلمل کرتی شمعیں دل میں کہتی ھیں
ہم وہ رند ھیں جن کو اپنی حقیقت بھی افسانہ ھے

میرا جی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم