MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

میخانے کا در کیوں ہے مقفل متواتر

غزل

میخانے کا در کیوں ہے مقفل متواتر
رہتی ہے طبیعت مری بوجھل متواتر

کرتا ہے وہ کیا تیغ کو صیقل متواتر
اک برق ہے رقصاں سر مقتل متواتر

وہ کل بھی کبھی آئے گی جس کل کو تو آئے
سنتا ہی رہوں یا تری کل کل متواتر

کب قیس کے مرنے سے کوئی فرق پڑا ہے
آتے ہی رہے دشت میں پاگل متواتر

کل خواب میں دیکھے تھے دھنک رنگ فلک پر
یاد آتا ہے مجھ کو ترا آنچل متواتر

مہتاب رخ اترا ہے کوئی اس میں یقیناً
ہے قلزم دل میں جو یہ ہلچل متواتر

سلمانؔ کو دیکھو کہ ہے مقتل میں وہ رقصاں
لب پر ہے ترا ذکر مسلسل متواتر

سلمان گیلانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم