MOJ E SUKHAN

نظر آتا ہے وہ جیسا نہیں ہے

نظر آتا ہے وہ جیسا نہیں ہے
جو کہتے ہو مگر ویسا نہیں ہے

نہیں ہوتا ہے کیا کیا اس جہاں میں
وہی جو چاہیئے ہوتا نہیں ہے

بھرا ہے شہر فرعونوں سے اپنا
کوئی ہوتا جو اک موسیٰ نہیں ہے

چلو اک اور کوشش کر کے دیکھیں
یونہی گھٹ گھٹ کے مر جانا نہیں ہے

نہیں ہے خواب دیوانے کا ہستی
یہ دنیا صرف اک دھوکا نہیں ہے

نہایت تلخ ہے سنگین سچ ہے
حقیقت اپنی افسانہ نہیں ہے

نمک اشکوں کا دل کو لگ گیا ہے
یہاں اب کچھ کہیں اگتا نہیں ہے

جو کرنا چاہیئے وہ ہی کیا ہے
ملے گا اجر کیا سوچا نہیں ہے

سنائے جا رہے ہیں اپنی اپنی
اجی سنیے مجھے سننا نہیں ہے

ہمیں چھیڑے نہیں بلقیسؔ کوئی
ہمارا آج جی اچھا نہیں ہے

بلقیس ظفیر الحسن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم