MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ چراغ جاں کہ چراغ تھا کہیں رہ گزار میں بجھ گیا

وہ چراغ جاں کہ چراغ تھا کہیں رہ گزار میں بجھ گیا
میں جو اک شعلہ نژاد تھا ہوس قرار میں بجھ گیا

مجھے کیا خبر تھی تری جبیں کی وہ روشنی مرے دم سے تھی
میں عجیب سادہ مزاج تھا ترے اعتبار میں بجھ گیا

مجھے رنج ہے کہ میں موسموں کی توقعات سے کم رہا
مری لو کو جس میں اماں ملی میں اسی بہار میں بجھ گیا

وہ جو لمس میری طلب رہا وہ جھلس گیا مری کھوج میں
سو میں اس کی تاب نہ لا سکا کف داغ دار میں بجھ گیا

جنہیں روشنی کا لحاظ تھا جنہیں اپنے خواب پہ ناز تھا
میں انہی کی صف میں جلا کیا میں اسی قطار میں بجھ گیا

عرفان ستار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم