MOJ E SUKHAN

کشکول ہاتھ میں لیے غدار دیکھیے

کشکول ہاتھ میں لیے غدار دیکھیے
مردہ چمن کے پاس اداکار دیکھیے

بے بس ہجوم دیکھتا ہے روز سانحہ
مجبور بھوکے پیٹ عزادار دیکھیے

سرحد کی سمت سے ذرا چہرہ گھمائیے
اپنی صفیں ٹٹولیے اغیار دیکھیے

اہلِ قلم اسیر ہیں اپنے مفاد کے
حق کو چھپائے پھرتے ہیں اخبار دیکھیے

سچ جھوٹ میں تمیز کا کرنا ہو فیصلہ
کیجے پھر ایک کام سرِدار دیکھیے

ماتھے پہ نقش ہے کہیں ہم بےوقوف ہیں
یعنی چمن فروش ہی ہر بار دیکھیے

ماجد اسیرِ زلف نہیں اس ہجوم میں
خوابیدگی کے دور میں بیدار دیکھیے

ماجد جہانگیر مرزا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم