غزل
کوئی پہلو بھی اب نیا نہیں ہے
بات کرنے کو کچھ بچا نہیں ہے
ہم تجھے دیکھنے کو ترسے ہیں
اور تو جان کر ملا نہیں ہے
ایک چڑیا کے آشیانے کو
شہر بھر میں کہیں جگہ نہیں ہے
سینکڑوں الوداعی سندیسے
اور وہ آج تک گیا نہیں ہے
جب بھی چاہو گے چھوڑ دو گے میاں
شاعری ہے کوئی نشہ نہیں ہے
آج بھی خیر کی خبر نہ ملی
اور آگے بھی آسرا نہیں ہے
باپ جیسا شفیق آنگن تھا
اب مرا اس سے واسطہ نہیں ہے
دل زدوں کے لیے شفا کی دعا
معجزہ ہو کوئی دوا نہیں ہے
بشریٰ مسعود