MOJ E SUKHAN

اگر سنانی ہے ہر قدم پر نئی کہانی تو ہار مانی

غزل

اگر سنانی ہے ہر قدم پر نئی کہانی تو ہار مانی
فریب کھاتے ہوئے گزرنی ہے زندگانی تو ہار مانی

اگر محبت ترا رویہ ہے پھر پرایا تو باز آیا
اگر زمانے تری روش ہے وہی پرانی تو ہار مانی

ہم اپنا جیون ہم اپنی خوشیاں ہم اپنا سب کچھ لٹا چکے ہیں
اگر ہے پھر بھی ہماری قسمت میں رائگانی تو ہار مانی

سمجھ رہی ہے اگر محبت کو سلسلہ اک حماقتوں کا
سمجھ رہی ہے جو خود کو تو اس قدر سیانی تو ہار مانی

نہیں بتانا جو کس تناسب سے جھوٹ ہے ساری داستاں میں
نہیں بتانا جو دودھ کیا اور کیا ہے پانی تو ہار مانی

سخن کی دیوی جو مہرباں ہو نہیں رہی افتخارؔ حیدرؔ
جو رک رہی ہے قلم کی قرطاس پر روانی تو ہار مانی

 

افتخار حیدر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم