گنگنائیں، تو لوگ جلتے ہیں
مسکرائیں، تو لوگ جلتے ہیں
بن کے مہتاب تیری راہوں میں
جگمگائیں، تو لوگ جلتے ہیں
داستاں ہم تری محبت کی
گر سنائیں، تو لوگ جلتے ہیں
اپنے روٹھے ہوئے اگر ہم سے
مان جائیں، تو لوگ جلتے ہیں
ہم کسی سے کیا ہوا وعدہ
گر نبھائیں، تو لوگ جلتے ہیں
رسم و رَہ جب بھی اہلِ دنیا سے
ہم بڑھائیں، تو لوگ جلتے ہیں
یہ بھی دیکھا، کسی کے دل کو ہم
جب بھی بھائیں، تو لوگ جلتے ہیں
اپنی خوشیوں کا گر کسی کو شریک
ہم بنائیں، تو لوگ جلتے ہیں
جب بھی کوئی ہمارے اپنے ‘صدف’
ناز اُٹھائیں، تو لوگ جلتے ہیں
صدف بنتِ اظہار