رہے یار آنکھوں میں حسرت یہی ہے
ہماری نماز اور عبادت یہی ہے
خدائی میں ہے یہ اسی بت کا جلوہ
کہ پردہ ہے سب اور حقیقت یہی ہے
کہا وہ ہی منصور نے مرتے مرتے
رہا حق زباں پر صداقت یہی ہے
رہے چشم نم دل ہو پہلو میں مضطر
سنا ہے نشان محبت یہی ہے
میری قبر تک اس میرے درد دل نے
دیا ساتھ میرا رفاقت یہی ہے
حسیں جو نظر آیا اس کو دیا دل
ہماری ہمیشہ سے عادت یہی ہے
در شاہ وارثؔ پہ دم نکلے اوگھٹؔ
تمنا یہی اور حسرت یہی ہے
اوگھٹ شاہ وارثی