MOJ E SUKHAN

رہے یار آنکھوں میں حسرت یہی ہے

رہے یار آنکھوں میں حسرت یہی ہے
ہماری نماز اور عبادت یہی ہے

خدائی میں ہے یہ اسی بت کا جلوہ
کہ پردہ ہے سب اور حقیقت یہی ہے

کہا وہ ہی منصور نے مرتے مرتے
رہا حق زباں پر صداقت یہی ہے

رہے چشم نم دل ہو پہلو میں مضطر
سنا ہے نشان محبت یہی ہے

میری قبر تک اس میرے درد دل نے
دیا ساتھ میرا رفاقت یہی ہے

حسیں جو نظر آیا اس کو دیا دل
ہماری ہمیشہ سے عادت یہی ہے

در شاہ وارثؔ پہ دم نکلے اوگھٹؔ
تمنا یہی اور حسرت یہی ہے

اوگھٹ شاہ وارثی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم