MOJ E SUKHAN

گونگا بن کے پھرتا ہوں

گونگا بن کے پھرتا ہوں
لوگ یہ سمجھے بہرا ہوں

چپ رہتا ہوں دیکھ کے سب
آنکھوں والا اندھا ہوں

پہلے کھینچی کھال مری
اب کہتے ہیں ننگا ہوں

تگڑا ہوں تو رعب بھی ہے
جھوٹا ہوں یا سچا ہوں

ناخن بھی ہیں ٹینشن بھی
اس پر ظلم کہ گنجا ہوں

گالی کھا کر چپ کر جاؤں
میں کیا لولا لنگڑا ہوں ؟

جن کو مجھ سے غرض نہیں
وہ کہتے ہیں کچرا ہوں

دنیا مطلب کی ہے یار
میں تھوڑا سا ڈھیلا ہوں

جن کے جھوٹ کو بولوں سچ
وہ کہتے ہیں اچھا ہوں

نام امؔر ہے لیکن یار
چار دنوں کا قصہ ہوں

امر روحانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم