گونگا بن کے پھرتا ہوں
لوگ یہ سمجھے بہرا ہوں
چپ رہتا ہوں دیکھ کے سب
آنکھوں والا اندھا ہوں
پہلے کھینچی کھال مری
اب کہتے ہیں ننگا ہوں
تگڑا ہوں تو رعب بھی ہے
جھوٹا ہوں یا سچا ہوں
ناخن بھی ہیں ٹینشن بھی
اس پر ظلم کہ گنجا ہوں
گالی کھا کر چپ کر جاؤں
میں کیا لولا لنگڑا ہوں ؟
جن کو مجھ سے غرض نہیں
وہ کہتے ہیں کچرا ہوں
دنیا مطلب کی ہے یار
میں تھوڑا سا ڈھیلا ہوں
جن کے جھوٹ کو بولوں سچ
وہ کہتے ہیں اچھا ہوں
نام امؔر ہے لیکن یار
چار دنوں کا قصہ ہوں
امر روحانی