Hijr Ki Aag Jalany Aayee
غزل
ہجر کی آگ جلانے آئے
وہ سدا ہم کو ستانے آئے
ہم کبھی کھل کے بھی تو ہنستے تھے
لوٹ کر کیوں نہ زمانے آئے
سہہ نہ پائیں گے ملن وہ اپنا
جو سدا ہم کو لڑانے آئے
جب کبھی وقت ملن کا آیا
تمہیں پھر یاد بہانے آئے
کھو گئی ہوں میں حسیں یادوں میں
یاد لمحے جو سہانے آئے
چاہتوں کا نہ یقیں ہے ان کو
بارہا وہ یہ جتانے آئے
دل نے ریحانہ پکارا جب بھی
وہ فقط ہم کو رلانے آئے
ریحانہ اعجاز
Rehana Aijaz