MOJ E SUKHAN

ہم اپنے آپ کو ایسے گنوانے لگتے ہیں

غزل

ہم اپنے آپ کو ایسے گنوانے لگتے ہیں
بہت خوشی ہو تو ماتم منانے لگتے ہیں

اکیلا پن ہے اور ایسا اکیلا پن جس میں
کوئی جو پوچھ لے کچھ سب بتانے لگتے ہیں

سمجھ میں آتا نہیں جب کوئی سوال ہمیں
بہانے باز ہیں ہم گنگنانے لگتے ہیں

وہ بات دیکھتے ہیں دل نہیں سمجھتے ہیں
میں جاؤ کہتا ہوں تو لوگ جانے لگتے ہیں

بس ایک بار ہمیں وہ پکار لیتا ہے
بدن کی قید میں ہم چھٹپٹانے لگتے ہیں

کسی کسی پہ ہی اب اعتبار ہوتا ہے
کسی کسی کے ہی ہم لوگ شانے لگتے ہیں

یہ چند دوست بلانے پہ بھی نہیں آتے
میں جب بلاتا نہیں ہوں تو آنے لگتے ہیں

ادھر سے آئے تو تجھ تک ہم آ گئے جلدی
ادھر سے آنے میں ورنہ زمانے لگتے ہیں

ہماری رات کا اک وقت طے ہے جس میں ہم
تمام بچھڑے ہوؤں کو بلانے لگتے ہیں

قمر عباس قمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم