MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہم کو آشفتگی نے مارا ہے

Ham ko Aashiftagi Nay mara hay

غزل

ہم کو آشفتگی نے مارا ہے
ہر قدم سر کشی نے مارا ہے

چھوڑا دامن اجل نواز نے تو
راہ میں زندگی نے مارا ہے

اتنی نفرت رہی تعفن سے
روح کی شستگی نے مارا ہے

دوستی بادلوں سے ہے میری
پھر بھی تشنہ لبی نے مارا ہے

چاند کی روشنی ہے آنگن میں
روح کی تیرگی نے مارا ہے

اک بلندی نے ساتھ کیا چھوڑا
پستیوں میں سبھی نے مارا ہے

کیسے دنیا کو یہ بتائیں ہم
دل کو اس دل لگی نے مارا ہے

اس قدر تار تار ہے دامن
ہم کو بخیہ گری نے مارا ہے

اہل حکمت نے جب بغاوت کی
راہ کی خودسری نے مارا ہے

دل ہے وہ آئینہ جسے تابشِ
سنگ شیشہ گری نے مارا ہے

شہزاد تابشِ

Shahzad Tabish

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم