Ham ko Aashiftagi Nay mara hay
غزل
ہم کو آشفتگی نے مارا ہے
ہر قدم سر کشی نے مارا ہے
چھوڑا دامن اجل نواز نے تو
راہ میں زندگی نے مارا ہے
اتنی نفرت رہی تعفن سے
روح کی شستگی نے مارا ہے
دوستی بادلوں سے ہے میری
پھر بھی تشنہ لبی نے مارا ہے
چاند کی روشنی ہے آنگن میں
روح کی تیرگی نے مارا ہے
اک بلندی نے ساتھ کیا چھوڑا
پستیوں میں سبھی نے مارا ہے
کیسے دنیا کو یہ بتائیں ہم
دل کو اس دل لگی نے مارا ہے
اس قدر تار تار ہے دامن
ہم کو بخیہ گری نے مارا ہے
اہل حکمت نے جب بغاوت کی
راہ کی خودسری نے مارا ہے
دل ہے وہ آئینہ جسے تابشِ
سنگ شیشہ گری نے مارا ہے
شہزاد تابشِ
Shahzad Tabish