MOJ E SUKHAN

یاد اس کی ہے اور چاندنی ہے

غزل

یاد اس کی ہے اور چاندنی ہے
رات اک حادثہ بن گئی ہے

یہ مری شان بادہ کشی ہے
اس نظر نے پلائی تو پی ہے

تیرے غم نے مری زندگی کو
لذت زندگی بخش دی ہے

چپ بھی ہو جاؤ اے لٹنے والو
رہنماؤں پہ بات آ گئی ہے

یہ تری ہجو بادہ ہی زاہد
وجہ بادہ کشی بن گئی ہے

عقل کیا رہبری کر سکے گی
جو ہمیشہ بھٹکتی پھری ہے

کتنے ماتھوں پہ بل پڑ گئے ہیں
بات حق کی جہاں میں نے کی ہے

قیس رامپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم