MOJ E SUKHAN

یہ سوچا ہی نہیں تھا تشنگی میں

غزل

یہ سوچا ہی نہیں تھا تشنگی میں
کہاں رکھوں گی لب میں بے بسی میں

تمہاری سمت آنے کی طلب میں
میں رکتی ہی نہیں ہوں بے خودی میں

دل خوش فہم تجھ سے کتنے ہوں گے
نثار اس کی تمنا کی گلی میں

نہیں وہ اتنا بھی پاگل نہیں تھا
جو مر جاتا مری وابستگی میں

مجھے اب عاصمہؔ چلنا پڑے گا
خود اپنے آپ ہی کی رہبری میں

عاصمہ طاہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم