MOJ E SUKHAN

نہ تھا حوصلہ کہ کرتے ترے عشق کا اعادہ

نہ تھا حوصلہ کہ کرتے ترے عشق کا اعادہ
کہ فراق کے سفر پر چلے ہم تھے پا پیادہ

ترے قرب کے فسوں کی ہیں حدیں جو کچھ مقرر
مری خواہشوں سے کم ہیں، مِری تاب سے زیادہ

وہی سلسلے پرانے نہیں استوار ہوں گے
کہ جو توڑ ڈالے رشتے سبھی تُو نے بلارادہ

تو نے کر لیا تھا وعدہ، بے ثبات زندگی میں
نہیں جانتا تھا تو بھی، نہ نبھا سکے گا وعدہ

نہ خدا کی تھی رضا یہ کہ مرا بنیں مقدر
وہ سیاہ گہری آنکھیں، وہ جبیں جو تھی کشادہ

تو مزاج کی تپش سے جو جلا چکا ہے دل کو
سبھی جل بجھے ہیں ارماں بچی راکھ یا برادہ

مرے ذہن میں ہیں شمسؔہ، مجھے بھولتے وہ کیسے
کبھی عشق میں جو تو نے، کہے کچھ تھے حرف سادہ

شمسہ نجم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم