نہ تھا حوصلہ کہ کرتے ترے عشق کا اعادہ
کہ فراق کے سفر پر چلے ہم تھے پا پیادہ
ترے قرب کے فسوں کی ہیں حدیں جو کچھ مقرر
مری خواہشوں سے کم ہیں، مِری تاب سے زیادہ
وہی سلسلے پرانے نہیں استوار ہوں گے
کہ جو توڑ ڈالے رشتے سبھی تُو نے بلارادہ
تو نے کر لیا تھا وعدہ، بے ثبات زندگی میں
نہیں جانتا تھا تو بھی، نہ نبھا سکے گا وعدہ
نہ خدا کی تھی رضا یہ کہ مرا بنیں مقدر
وہ سیاہ گہری آنکھیں، وہ جبیں جو تھی کشادہ
تو مزاج کی تپش سے جو جلا چکا ہے دل کو
سبھی جل بجھے ہیں ارماں بچی راکھ یا برادہ
مرے ذہن میں ہیں شمسؔہ، مجھے بھولتے وہ کیسے
کبھی عشق میں جو تو نے، کہے کچھ تھے حرف سادہ
شمسہ نجم