MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

آگ بجھ جائے بھی تو اس کا دھواں بولتا ہے

آگ بجھ جائے بھی تو اس کا دھواں بولتا ہے
جیسے زنجیر کا پاؤں پہ نشاں بولتا ہے

غم خد و خال سے جب ہو کے عیاں بولتا ہے
ایسا لگتا ہے مکیں چپ ہے، مکاں بولتا ہے

تو نے سیکھا ہے کہاں سے یہ پرایا لہجہ
اے مرے دوست تو اب کس کی زباں بولتا ہے

اس کے معنی کو سمجھتا ہے کوئی صاحبِ دل
اشک رخسار پہ جب ہو کے رواں بولتا ہے

ایک قرآن ہے جو غارِ حرا میں اترا
ایک وہ ہے جو سرِ نوکِ سناں بولتا ہے

صاحب منبر و مسند کی خبر ہے ہم کو
یہ بھی معلوم ہے کیا، کون، کہاں بولتا ہے

چھوڑ جائیں گے صغیر اب تجھے سارے اپنے
یہ جو تو بھول کے سب سود و زیاں بولتا ہے

(صغیر احمد صغیر)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم