MOJ E SUKHAN

سوچ کے جب بھورے بادل چھٹ گئے

سوچ کے جب بھورے بادل چھٹ گئے
سارے آنگن روشنی سے اٹ گئے


سر پھرے جذبوں کو پاؤں جب ملے
راستے کے سارے پتھر ہٹ گئے


آسماں سے آ رہی تھیں کرچیاں
ہم زمیں زادوں کے چہرے کٹ گئے


ہجر کے ہم آئنہ خانے میں تھے
عکس سارے زاویوں میں بٹ گئے


رات میں گننے ستارے اور بس
دن تری حسرت میں اپنے کٹ گئے


شہر کی اجلی فضا کو کیا ہوا
دھول سے شفاف چہرے اٹ گئے


جھاڑیاں پہنی ہیں عابد پاؤں میں
آبلے تو راستوں میں کٹ گئے

حنیف عابد


Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم