یہ اپنا دل کہاں مانے کہ ہم آزاد بھی ہونگے
پرندے جس جگہ ہونگے وہاں صیاد بھی ہونگے
برا جب وقت آجاۓ اسے اک امتحاں سمجھیں
کبھی ہم شاد بھی ہونگے کبھی ناشاد بھی ہونگے
بناۓ جوڑ کر تنکے یہ سوچا ہی نہیں ہم نے
سفینے تند لہروں سے کبھی برباد بھی ہونگے
یہ چلمن اور ردا تیری ضمانت ہے حفاظت کی
جہاں شیریں بھٹکتی ہو کئی فرہاد بھی ہونگے
سنبھالو دل کی حالت کو کہ چہرے سے عیاں نا ہو
شبِ فرقت کے سینے میں سخن آباد بھی ہونگے
نہ ہانکو ایک لاٹھی سے سبھی کو یہ بھی تو سوچو
کہ اس بونوں کی بستی میں قدِ شمشاد بھی ہونگے
برا مانے تو کیا مانے بھلا اشرف زمانے کا
مرے اشعار اک دن جانتا ہوں یاد بھی ہونگے
اشرف بابا