برق سی گزر گئی
زندگی گزر گئی
الوداع کر دیا
ریل بھی گزر گئی
راکھ بن گیا بدن
شام تھی گزر گئی
ہاتھ دل پہ رہ گیا
ٹیس سی گزر گئی
کب ملے تم اور میں
اک صدی گزر گئی
یہ شجر بھی جھڑ گیا
سبزگی گزر گئی
ذہن تنگ ہو گیا
اک ونی گزر گئی
مہوش اشرف
برق سی گزر گئی
زندگی گزر گئی
الوداع کر دیا
ریل بھی گزر گئی
راکھ بن گیا بدن
شام تھی گزر گئی
ہاتھ دل پہ رہ گیا
ٹیس سی گزر گئی
کب ملے تم اور میں
اک صدی گزر گئی
یہ شجر بھی جھڑ گیا
سبزگی گزر گئی
ذہن تنگ ہو گیا
اک ونی گزر گئی
مہوش اشرف