MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بس مدینے میں ہی جینے کا سہارا ملے گا

بس مدینے میں ہی جینے کا سہارا ملے گا
خلد میں جانے کا واں سے ہی اشارہ ملے گا

اس گھڑی ہوگی مرے نام سے منسوب حیات
جس گھڑی غم کے سمندر کا کنارا ملے گا

مجھ کو امید ہے واثق کے مسافت میں مجھے
راہ دکھلانے کو قسمت کا ستارا ملے گا

سائے میں بیٹھ کے خضریٰ کے پڑھوں گا نعتیں
پھر مقدر کا لکھا سارے کا سارا ملے گا

قبر میں آئیں گے احوال کو جب دونوں نکیر
صرف دیوان ہی پڑھنے کو ہمارا ملے گا

جن کو کھلتے ہیں نبی جی کے زمانے میں غلام
بعد مرنے کے انہیں صرف خسارا ملے گا

دل دھڑکتے ہوئے اقبال یہی کہتا ہے
خواب میں تجھ سے تری جان کا پیارا ملے گا

ڈاکٹر سید محمد اقبال شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم