MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بھول جائے تو اسے یاد نہ آنے دینا

بھول جائے تو اسے یاد نہ آنے دینا
دل کو بیتی ہوئی باتوں میں نہ جانے دینا

ان کو تعبیر نہ دے پاؤ تو اے راہبرو
میرے لوگوں کو ذرا خواب سہانے دینا

ذکر کرتے ہوئے ماضی کی محبت کا اگر
کوئی چپ ہو تو اسے بات چھپانے دینا

ایسی کم ظرفی کو مزدور کہاں سمجھے گا
اس کو اجرت میں سبھی نوٹ پرانے دینا

یارِخوش حال کو عزت سے بٹھانا گھر میں
مجھ سے بد حال کو باہر سے ہی جانے دینا

یہ خبر مجھ نہ دینا کہ وہ آئے گا نہیں
اس بہانے مجھے تم گھر تو سجانے دینا

سلمان صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم