MOJ E SUKHAN

بے وفا سے بھی پیار ہوتا ہے

بے وفا سے بھی پیار ہوتا ہے
یار کچھ بھی ہو یار ہوتا ہے

ساتھ اس کے جو ہے رقیب تو کیا
پھولوں کے ساتھ خار ہوتا ہے

جب وہ ہوتے ہیں صحن گلشن میں
موسم نو بہار ہوتا ہے

کاش ہوتے ہم اس کے پھولوں میں
اس گلے کا جو ہار ہوتا ہے

دوست سے کیوں بھلا نہ کھاتے فریب
دوست پہ اعتبار ہوتا ہے

جب وہ آتے نہیں شب وعدہ
موت کا انتظار ہوتا ہے

وصل میں بھی خیال ہجر سے دل
بے سکون بے قرار ہوتا ہے

ہم بڑے خوش نصیب ہیں ورنہ
آپ کو کس سے پیار ہوتا ہے

تیر وہ تیر نیم کش تو نہیں
دل کے جو آر پار ہوتا ہے

حسن اخلاق عروس حیات
سب سے اچھا سنگار ہوتا ہے

عشق کی کائنات کا پرنمؔ
حسن پروردگار ہوتا ہے

پرنم الہ آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم