MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ترے ہم چاہنے والے عجب دلدل میں اترے ہیں

ترے ہم چاہنے والے عجب دلدل میں اترے ہیں
یہ بادل ہم پہ اترے ہیں یا ہم بادل میں اترے ہیں

تو اپنی زلف کی چھاؤں مہیا کر دے اب ہم کو
بہت سی خواہشیں لے کر کسی جنگل میں اترے ہیں

بہت ظالم ہمارے وقت کا حاکم ہے لیکن ہم
فقط شوقِ شہادت وقت کے کربل میں اترے ہیں

کوئی منزل کوئی رستہ دکھائی بھی نہیں دیتا
ہم اہلِ دل ہیں اور خاموش اک مقتل میں اترے ہیں

ہیں ہم گوشہ نشیں درویش سے شاعر نما بندے
سو محوِ استراحت خواب اک چنچل میں اترے ہیں

کفن لینے کے بھی لالے ہیں ہم کو اور کچھ بندے
یہاں ایسے بھی ہیں جو قیمتی مخمل میں اترے ہیں

کوئی تصویر آنکھوں میں سجا کر آج ہم آصف
کسی کی آنکھ سے بہتے ہوئے کاجل میں اترے ہیں

آصف نقوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم