MOJ E SUKHAN

مرے دل سے کوئی پوچھے کہ تم ہو اور کیا تم ہو

مرے دل سے کوئی پوچھے کہ تم ہو اور کیا تم ہو
نصیب دشمناں ہو دشمنوں کا مدعا تم ہو

نہاں ہم سے ہی رہتے ہو وگر نہ جا بجا تم ہو
گلوں میں رنگ آرا غنچوں میں نگہت فزا تم ہو

نہیں جب واسطہ ہم سے تو پھر اغماض کیسے ہیں
کرو اغماض بھی اون سے کہ جن کی آشنا تم ہو

رہا دور جہاں قایم کبھی ہو جائے گا ملنا
ہمارے دم میں دم باقی ہے اور نام خدا تم ہو

گرے جاتے ہو نظروں سے مرے جی سے اترتے ہو
ہر ایک چشم تماشا کا تماشا ہو گیا تم ہو

وفا پر ناز کرتے ہو دکھاؤ کچھ وفا کر کے
اسی بیگانہ واری پر کہیں ہم با وفا تم ہو

ملو گے ہم سے تم آکر یہ سب کہنے کی باتیں ہیں
کرو گے اوس کا دل ٹھنڈا کہ جس کے مبتلا تم ہو

نہ دیتے دل کبھی تم کو اگر پہلے سمجھ لیتے
کہ ایسے بے وفا ہو اور غرض کے آشنا تم ہو

ہماری آرزو دل کی تمہاری جنبش لب پر
تمنا اب بر آتی ہے اگر کچھ لب کشا تم ہو

نہ نکلے کام جب تم سے تمہاری پھر خوشامد کیوں
جہاں میں اور بھی شاہد ہیں کیا ایک دل ربا تم ہو

صنم بھی تم نہیں بت بھی نہیں جو تم کو ہم پوجیں
تمہارے ناز اٹھائیں کیا خدائی میں خدا تم ہو

تمہارے گھر سے ہم نکلے خدا کے گھر سے تم نکلے
تمہیں ایمان سے کہہ دو کہ کافر ہم ہیں یا تم ہو

جب آنکھیں چار ہوتی ہیں کدورت جاتی رہتی ہے
نہیں ہوتے مگر تم صاف وہ کافر ادا تم ہو

زمانہ کو بدلنے دو خدا وہ دن بھی کر دے گا
تماشا دیکھ لینا ہم سے کرتے التجا تم ہو

یہ سب اڑ جائے گی نخوت گلے سے مے اترنے دو
بنا دیں گے تمہیں ہم بھی کہ کیا تھے کیا سے کیا تم ہو

غزل یہ دور جائے گی لکھو اس رنگ سے راقمؔ
کہ ہر انصاف پرور کی زباں پر مرحبا تم ہو

راقم دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم