MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سنبھل کے رہیے گا غصہ میں چل رہی ہے ہوا

غزل

سنبھل کے رہیے گا غصہ میں چل رہی ہے ہوا
مزاج گرم ہے موسم بدل رہی ہے ہوا

وہ جام برف سے لبریز ہے مگر اس سے
لپٹ لپٹ کے مسلسل پگھل رہی ہے ہوا

ادھر تو دھوپ ہے بندش میں اور چھتوں پہ ادھر
لباس برف کا پہنے ٹہل رہی ہے ہوا

بجھا رہی ہے چراغوں کو وقت سے پہلے
نہ جانے کس کے اشاروں پہ چل رہی ہے ہوا

جو دل پہ ہاتھ رکھوگے تو جان جاؤ گے
مچل رہی ہے برابر مچل رہی ہے ہوا

میں کہہ رہا ہوں ہوا ہے تو جل رہے ہیں چراغ
وہ کہہ رہے ہیں چراغوں سے جل رہی ہے ہوا

گوند گلشن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم