MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جو نہ کرنا تھا کیا جو کچھ نہ ہونا تھا ہوا

غزل

جو نہ کرنا تھا کیا جو کچھ نہ ہونا تھا ہوا
چار دن کی زندگی میں کیا کہیں کیا کیا ہوا

یہ سمجھ کر ہم نہیں کہتے کسی سے راز دل
اس طرف نکلا زباں سے اس طرف چرچا ہوا

بھر کے ٹھنڈی سانس لیں بیمار نے جب کروٹیں
وہ کلیجہ تھام کر کہنے لگے یہ کیا ہوا

سنیے سنیے آتش غم سے ہوئے ہم جل کے خاک
کہیے کہیے اب کلیجہ آپ کا ٹھنڈا ہوا

میرے چہرے سے عیاں ہے دیکھ لو پہچان لو
یہ نہ پوچھو دل کا عالم دل کا نقشہ کیا ہوا

بسمل الہ آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم