MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خدا معلوم جب غنچے ہنسے شبنم پہ کیا گزری

غزل

خدا معلوم جب غنچے ہنسے شبنم پہ کیا گزری
تبسم کی فضا میں دیدۂ پر نم پہ کیا گزری

جلی شاخ نشیمن تک نشیمن کی رفاقت میں
پتا کیا بجلیوں کو ہم صفیرو ہم پہ کیا گزری

نہ پایا فرق اسیری اور آزادی میں جب کوئی
کہوں کیا اس گھڑی اپنے دل پر غم پہ کیا گزری

عزیز مصر کیا جانے یہ پوچھو پیر کنعاں سے
کہ فرقت میں پسر کی دیدۂ پر نم پہ کیا گزری

اسے محسوس کر سکتا بھلا کیا ذوق ابلیسی
کہ جنت سے نکلنے میں دل آدم پہ کیا گزری

نشیمن کی نہ چھوڑی خاک بھی برق حوادث نے
یہ منظر دیکھ کر ہم کیا بتائیں ہم پہ کیا گزری

نہ سلجھے تم نے سلجھانے کو ویسے لاکھ سلجھایا
مری وحشت سے دیکھو گیسوئے برہم پہ کیا گزری

جو ہو بے درد اس کو درد کا احساس کیونکر ہو
ستم گر کی بلا جانے ستم سے ہم پہ کیا گزری

غم جاناں ہی کیا کم تھا غم دوراں بھی اپنایا
خدا جانے اسیر گیسوئے پر خم پہ کیا گزری

ہماری ایک جرأت نے جو ذوق زندگی بدلا
بتائیں کیا دل ناآشنائے غم پہ کیا گزری

سبب یاران ساحل اے نظیرؔ زار کیا جانیں
کہ طوفان بلا میں ڈوبتوں کے دم پہ کیا گزری

سعادت نظیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم