MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خوابوں سا کوئی خواب بنانے میں لگی ہوں

خوابوں سا کوئی خواب بنانے میں لگی ہوں
اک دشت میں ہوں پیاس بجھانے میں لگی ہوں

بتلاؤ کوئی اسم مجھے رد بلا کا
میں آخری کردار نبھانے میں لگی ہوں

وہ صحن میں افلاک لیے کب سے کھڑا ہے
میں چھت پہ ہوں بادل کو اڑانے میں لگی ہوں

اک عمر ہوئی پیڑ پہ دو نام لکھے تھے
اک عمر سے وہ نام مٹانے میں لگی ہوں

رکنے نہ کبھی پائے سفر روشنیوں کا
دریا میں چراغوں کو بہانے میں لگی ہوں

جس وقت سے آنے کا سنا ہے ترا گھر میں
چیزوں کو میں رکھنے میں اٹھانے میں لگی ہوں

جلتا بھی ہے بجھتا بھی ہے اڑتا بھی ہے جگنو
سورج کو یہ احساس دلانے میں لگی ہوں

بجھنے کو ہے اب خالی دیا عمر رواں کا
میں ہوں کہ ہواؤں کو منانے میں لگی ہوں

ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم