MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

میرا مخلص میرے حالات کو کب دیکھے گا

میرا مخلص میرے حالات کو کب دیکھے گا
میں کہیں خاک میں سو جاؤں گا تب دیکھے گا

میرے چہرے پہ لکھا کرب وہ پڑھتا ہی نہیں
جس کا دعویٰ ہے مجھے دیکھ کے سب دیکھے گا

لوگ بن موت بھی مر جاتے ہیں اس نگری میں
کس کو فرصت ہے جو مرنے کا سبب دیکھے گا

طنز کے تیر سے کاٹے گا کلیجہ ظالم
اپنا یہ حال کہ تم چھوڑ دو رب دیکھے گا

کون پوچھے گا کہ سب مال کہاں سے آیا
دیکھنے والا تو بس جینے کی چھب دیکھے گا

بھوکے لاچار کو کیا عشق سے لینا کاوش
روٹیاں پیٹ میں جائیں گی وہ جب دیکھے گا

کاوش کاظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم