MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل میں یہ ایک ڈر ہے برابر بنا ہوا

غزل

دل میں یہ ایک ڈر ہے برابر بنا ہوا
مٹی میں مل نہ جاے کہیں گھر بنا ہوا

اک لفظ بے وفا کہا اس نے پھر اس کے بعد
میں اس کو دیکھتا رہا پتھر بنا ہوا

جب آنسوؤں میں بہہ گئے یادوں کے سارے نقش
آنکھوں میں کیسے رہ گیا منظر بنا ہوا

لہرو! بتاؤ تم نے اسے کیوں مٹا دیا
خوابوں کا اک محل تھا یہاں پر بنا ہوا

وو کیا تھا اور تم نے اسے کیا بنا دیا
اترا رہا ہے قطرہ سمندر بنا ہوا

گوند گلشن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم