MOJ E SUKHAN

دنیا ترے تماشے سے بزار کون ہے

دنیا ترے تماشے سے بزار کون ہے
سب دیکھنے میں محو ہیں بے کار کون ہے

سب کچھ بدل چکا ہے زماں بھی مکان بھی
بدلا نہیں جو اب بھی وہ کردار کون ہے

اب میکدے میں جا کے ہمیں دیکھنا ہے یہ
جو پی رہے ہیں ان میں طرح دار کون ہے

سب جانتے ہیں شہر میں اس واردات کو
جس کو خبر نہیں وہ قلم کار کون ہے

اس درجہ ہو گئی ہے رویوں میں مصلحت
تحقیق کر رہا ہوں کہ غم خوار کون ہے

دل کی صدا پہ بزم میں کہہ تو دیا ہے سچ
اب دیکھنا ہے میرا طرف دار کون ہے

سلمان صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم