MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نہ چھیڑ قصہ غمِ ہائے دوستی مرے دوست

نہ چھیڑ قصہ غمِ ہائے دوستی مرے دوست
یہ ایک تلخ فسانہ ہے پھر کبھی مرے دوست

ہر اک کے بس میں کہاں ہے یہ زندگی مرے دوست
گزارتے ہیں جو ہم تم ہنسی خوشی مرے دوست

زمانہ کیسے کرے گا مجھے نظر انداز
گلی گلی مرے دشمن گلی گلی مرے دوست

عجب ہے ہم سفروں کا مزاج کیسے نبھے
ابھی ابھی مرے دشمن ابھی ابھی مرے دوست

کوئی تو عیب ہے مجھ میں جو قرب کے باصف
مرے خلاف ہوئے ہیں خوشی خوشی مرے دوست

یہی ہے طرزِ تعلق تو کس سے کیجے گلہ
کہ جو عدو کے طرف دار ہیں وہی مرے دوست

برنگِ لطف مرا دل دکھانے آتے ہیں
کبھی کبھی مرے دشمن کبھی کبھی مرے دوست

کسی بھی روتے ہوئے آدمی کا ہنس پڑنا
ہنسی نہ جان ہے اظہارِ بے بسی مرے دوست

خود اپنا آپ بھی دشمن دکھائی دیتا ہے
کوئی مذاق نہیں ہے خود آگہی مرے دوست

جو سوچیے تو کوئی بھی یہاں کسی کا نہیں
جو دیکھیے تو ہی اس شہر میں سبھی مرے دوست

تجھے خبر ہے مری اور نہ مجھ کو تیرا پتہ
یہ دوستی ہے تو یہ کب ہے دوستی مرے دوست

خدا کرے کہ میں ہو جاؤں خود میں گم ایسا
مجھے کبھی نہ ستائے تری کمی مرے دوست

اقبال پیرزادہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم