سود و زیاں کی بھیڑ سے ہم بے خبر گئے
چپ چاپ مثلِ آبِ رواں ہم گزر گئے
پہلو میں آ کے بیٹھے تو شکوے نہیں رہے
دو اشک چشمِ تر کے بڑا کام کر گیۓ
سوچا نہ تھا کہ رنگ یہ لائے گی بے خودی
جانا تھا کس نگر کو مگر کس نگر گئے
پھر یوں ھوا کہ ھو گیا وہ بے وفا بری
الزام بے وفائی کے میرے ہی سر گئے
اٹھی ہے دل میں ٹیس سی پھر ان کو دیکھ کر
"ہم تو سمجھ رہے تھے کہ سب زخم بھر گے”
میں نے تو زرد چاند کی تعریف ہی تو کی
تم آسماں نژاد ہو ، کیوں اتنا ڈر گئے
پھر ان کی سر بلندی کا امکان ہی نہیں
اک بار جو خمار نظر سے اتر گئے
اک عمر سے میں ڈھونڈ رہی ہوں انہیں خمار
رستے بدل بدل کے وہ جانے کدھر گئے
رئیسہ خمار آرزو