ضرورت گھر نگلتی جا رہی ہے
گلی بازار بنتی جا رہی ہے
ہمارا حوصلہ کم ہو رہا ہے
یہ دنیا تیز چلتی جا رہی ہے
نکالا جا رہا ہے مجھ کو گھر سے
مری بنیاد رکھی جا رہی ہے
نہیں معلوم کب تک قید میں ہوں
ابھی زنجیر پرکھی جا رہی ہے
مجھے بھی پھول بننا پڑ رہا ہے
مرے ہمراہ تتلی جا رہی ہے
ادھر اک شخص بھوکا مر رہا ہے
ادھر خیرات بانٹی جا رہی ہے
یہ کیسے سانس لیں گے لوگ سارے
ہوا تقسیم ہوتی جا رہی ہے
روپے کی قدر کیا کم ہو رہی ہے
مری قیمت بھی گرتی جا رہی ہے
مری بینائی کم ہونے لگی ہے
جوانی اس کی ڈھلتی جا رہی ہے
کوئی بھی جرم ثابت کب ہوا ہے
سزا چپ چاپ کاٹی جا رہی ہے
محمد مظہر نیازی