MOJ E SUKHAN

ضرورت گھر نگلتی جا رہی ہے

ضرورت گھر نگلتی جا رہی ہے
گلی بازار بنتی جا رہی ہے

ہمارا حوصلہ کم ہو رہا ہے
یہ دنیا تیز چلتی جا رہی ہے

نکالا جا رہا ہے مجھ کو گھر سے
مری بنیاد رکھی جا رہی ہے

نہیں معلوم کب تک قید میں ہوں
ابھی زنجیر پرکھی جا رہی ہے

مجھے بھی پھول بننا پڑ رہا ہے
مرے ہمراہ تتلی جا رہی ہے

ادھر اک شخص بھوکا مر رہا ہے
ادھر خیرات بانٹی جا رہی ہے

یہ کیسے سانس لیں گے لوگ سارے
ہوا تقسیم ہوتی جا رہی ہے

روپے کی قدر کیا کم ہو رہی ہے
مری قیمت بھی گرتی جا رہی ہے

مری بینائی کم ہونے لگی ہے
جوانی اس کی ڈھلتی جا رہی ہے

کوئی بھی جرم ثابت کب ہوا ہے
سزا چپ چاپ کاٹی جا رہی ہے

محمد مظہر نیازی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم