MOJ E SUKHAN

کتنی شدت سے تجھے چاہا تھا

کتنی شدت سے تجھے چاہا تھا
کبھی کچھ اور نہیں سوچا تھا

کھوئے تھے ایسے تری چاہت میں
ٹوٹ کے ابر جنوں برسا تھا

میری ہر سوچ میں تھی تیری ہی سوچ
میرا ہر لمحہ ترا لمحہ تھا

جب بھی پڑتے تھے خیالوں کے بھنور
تیرا چہرہ ہی ابھر آتا تھا

ان دنوں جسم کی رگ رگ میں رواں
خوں کہاں خواہشوں کا دریا تھا

یاد ہے آج بھی سانسوں کی مہک
وقت اپنے لیے رک جاتا تھا

جب چمکتا تھا بدن کا سورج
دھوپ بن کر میں بکھر جاتا تھا

ٹوٹ جاتا تھا زمانوں کا سکوت
دفعتاً شام کو فون آتا تھا

رنگ پیراہن احساس تھی تو
میں نگاہ طلب تشنہ تھا

تو نسیم سحر موسم گل
میں کہ اک ٹوٹا ہوا پتا تھا

ریزہ ریزہ ہوا قصر پندار
بے طرح زور بدن ٹوٹا تھا

وار دی آج ترے در پہ انا
بوجھ صدیوں سے اٹھا رکھا تھا

راہیں بانہیں تو دریچے آنکھیں
یہ ترا شہر بھی تجھ جیسا تھا

عمر بھر اپنے ہی شعلوں میں جلا
میں کہ سورج کی طرح تنہا تھا

گرم ہیں رنگ کے بازار یہاں
اتنا سناٹا کہاں ہوتا تھا

پاؤں نیچے سے زمیں بھی نکلی
میں خلاؤں کی طرف لپکا تھا

صبح کی طرح وہ بے رنگ ہے اب
شامؔ کی طرح جسے چاہا تھا

محمود شام

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم