Ajab Andaz main ab Subh ki Tanveer Hoti Hay
غزل
عجب انداز میں اب صبح کی تنویر ہوتی ہے
نہ کوئ خواب ہوتا ہے نہ وہ تعبیر ہوتی ہے
محبت میں خدا کو ڈھونڈنے والے پریشاں ہیں
ہر اک بینائ کی زد پر کوئ تصویر ہوتی ہے
پرانے بام و در پر گفتگو ہوتی ہے روحوں میں
ہوا کے شہر میں جب بھی کوئ تعمیر ہوتی ہے
جسے تم شور کہتے ہو جسے ہم چیخ کہتے ہیں
وہ آوازِ گرفتِ حلقئہِ زنجیر ہوتی ہے
دیارِ دوست میں ممکن نہیں اک حال میں رہنا
یہاں ہر جا ہوا کی اک نئ تاثیر ہوتی ہے
بہت سے زاویے ہوتے ہیں دل آویز صورت کے !
مگر جو آدمی کی آخری تصویر ہوتی ہے
پگھل جاتا ہے اندر سے بدن پہلی ہی خواہش میں
مگر آنسو نکلنے میں ذرا تاخیر ہوتی ہے
خطائے ناگہاں ہو جائے تو کیا زندگی کیجے
کبھی زنجیر ہوتی ہے کبھی شمشیر ہوتی ہے
انا کو توڑنا بھی سخت مشکل کام ہے محسن
بہت عجلت کریں پھر بھی بہت تاخیر ہوتی ہے
محسن اسرار
Mohsin Asrar