غزل
فرات عشق پر پہرہ لگا ہے
مرا احساس پیاسا رہ گیا ہے
نہ جانے کس گھڑی وہ مجھ کو چھوڑے
یہ دکھ اک بوجھ بنتا جا رہا ہے
وہ اک لمحہ جسے کہتے ہیں قربت
اسی لمحے کا ہم میں فاصلہ ہے
تری آنکھیں دہائی دے رہی ہیں
ترے اندر کوئی خیمہ جلا ہے
میں اپنی سوچ سے محو تکلم
وہ میرے پاس تنہا رہ گیا ہے
محسن چنگیزی