MOJ E SUKHAN

مرے گھر کی اینٹیں چرا لے گیا وہ

مرے گھر کی اینٹیں چرا لے گیا وہ
نہیں جانتا ہے کہ کیا لے گیا وہ

اسے کیا ضرورت تھی وہ جانتا ہے
جو گھر میں پرایا خدا لے گیا وہ

سر راہ جس نے کیا قتل میرا
ستم ہے مرا خوں بہا لے گیا وہ

مرا روتا بچہ بہلتا تھا جس سے
وہ لکڑی کا ہاتھی اٹھا لے گیا وہ

سخاوت نے اس کو دھنی کر دیا ہے
فقیروں کی سچی دعا لے گیا وہ

اسے تو ضرورت تھی چنگاریوں کی
ہواؤں میں شعلے دبا لے گیا وہ

وہ کل آئے گا آگ اس میں لگانے
مری جھونپڑی کا پتہ لے گیا وہ

لبھانے کی اس میں ادا کب تھی پہلے
مری شاعری کی ادا لے گیا وہ

وہ بت ہم سے مل کر بنا سومناتی
کہ سونے کا پانی چڑھا لے گیا وہ

ف س اعجاز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم