MOJ E SUKHAN

چمکتے اشکوں کی تسبیح لے کے ہاتھوں میں

چمکتے اشکوں کی تسبیح لے کے ہاتھوں میں
میں تجھ کو ڈھونڈتا پھرتا ہوں طاق راتوں میں

وہ ہنس رہا تھا مگر سُن کے رو پڑا میں تو
بڑی شدید اُداسی تھی اُس کی باتوں میں

کچھ اِس لیے بھی ہے میری غزل میں سُرخی سی
میں بھرتا رہتا ہوں اپنا لہو دواتوں میں

چلو یہ مانا تری جیت ہے عظیم مگر
ہماری مات بھی ہے یادگار ماتوں میں

پُکارتی ہیں مجھے وہ صدائیں بھی فارس
چُھپی ہوئی ہیں جو نادیدہ کائناتوں میں

رحمان فارس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم