MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بس اتنا چاہتی ہوں وصل کی اک رات حاصل ہو

بس اتنا چاہتی ہوں وصل کی اک رات حاصل ہو
مری آنکھوں کو تیرے نور کی سوغات حاصل ہو

مرے اندر جو رہتا ہے مخاطب ہو کبھی مجھ سے
اکیلی چل رہی ہوں میں کسی کا ساتھ حاصل ہو

میں تیاگی ہوں مرے اندر کوئی ارماں نہیں باقی
بجز اس کے کہ قرب اصل موجودات حاصل ہو

میں اپنے آپ میں رہتی ہوں خود کو جانتی کب ہوں
پتہ کچھ تو چلے کچھ تو سراغِ ذات حاصل ہو

حیات و موت کے چکر سے چھٹکارا نہیں مشکل
اگر کچھ طاقت تبدیلی اوقات حاصل ہو

زمینوں کے حجر ، حیواں ، شجر باتیں کریں مجھ سے
مجھے ادراکِ احساساتِ مخلوقات حاصل ہو

رفعت وحید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم