MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

چھوڑ آئے ہیں جسے ہم وہ جہاں کیسا ہے

چھوڑ آئے ہیں جسے ہم وہ جہاں کیسا ہے
جس میں اک عمر گزاری وہ مکاں کیسا ہے

دل سے پامال محبت کو مٹا کر اک دن
پھر سے اک شخص جو ہو جائے جواں کیسا ہے

نہ کسی وصل کی لذت نہ کسی ہجر کا روگ
دل سے اُٹھتا ہے جو اکثر وہ دھواں کیسا ہے

ناخداؤں کے ہے قبضے میں خدائی جس کی
عرش گرتا نہیں جس پر وہ جہاں کیسا ہے

خود نہ احوال بتاتے تو بھلا کیا کرتے
اُس نے پوچھا ہی نہیں کون کہاں کیسا ہے

بات جو دل میں اُتر جائے وہی بات اچھی
اس سے کیا لینا کہ اندازِ بیاں کیسا ہے

ہم بھی عابد تمہیں اک روز دکھائی دیں گے
یہ نہ بتلاؤ ہمیں اگلا جہاں کیسا ہے

عابد رشید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم