سکہ چلے چمن میں خزاں یا بہار کا
یہ درد سر ہے گردشِ لیل و نہار کا
آ بیٹھتا ہے سایہء دیوار دیکھ کر
کیا حال پوچھتے ہو غریب الدیار کا
مجھ کو نہ دیکھ میرے دل خوں شدہ کو دیکھ
میں نے خزاں میں پھول کھلایا بہار کا
لازم ہے اپنے اپنے نشیمن کی فکر بھی
یہ معرکہ ہے چشمک برق و شرار کا
اس فصل گل میں دل پہ جو خالد گزر گئی
اب اس کے بعد نام نہ لینا بہار کا
قصہ ہے بس یہ کشمکشِ اقتدار کا
کچھ دور اختیار کا کچھ اختیار کا
خالد علیگ