MOJ E SUKHAN
No Record Found
کرب تخلیق سے گزر کر دیکھزندگی کے لیے بھی مر کر دیکھ
کوئی موسم نہیں خزاں نہ بہاراپنے اندر ذرا اتر کر دیکھ
خالد علیگ
جو ڈر اپنوں سے ہے غیروں سے وہ ڈر ہو نہیں سکتا
کاش ایسی بھی کوئی ساعت ہو
آئینہ کردار کا جس نے بھی میلا کرلیا
جھیلیں گے ہم آزار پہ آزار کہاں تک
دل پہ زخم کھاتے ہیں جان سے گزرتے ہیں
سب پگھل جائے تماشہ وہ ادھر کب ہوگا
گزری جو رہ گزر میں اسے درگزر کیا
پلکیں نیند سے بوجھل ہیں یا اب منظر کی تاب نہیں
تنگ آتے بھی نہیں کشمکش دہر سے لوگ
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے